بنگلورو۔17؍نومبر(ایس اونیوز)وزیر اعلیٰ سدرامیا نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ریاست بھر کے کوآپریٹیو بینکوں کو پرانے اور ممنوعہ ہزار اور پانچ سو روپیوں کے نوٹوں کا تبادلہ کرنے اور بطور ڈپازٹ ان نوٹوں پر مشتمل رقومات کو وصول کرنے کی اجازت دی جائے۔ مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے نام ایک مکتوب میں سدرامیا نے کہاکہ ریزرو بینک آف انڈیا نے 14؍ نومبر کو جاری کئے گئے ایک سرکیولر میں ضلع کوآپریٹیو بینکوں کو پرانے نوٹ منظور کرنے سے منع کردیا ہے، جس کی وجہ سے ریاست کے دیہی علاقوں میں عوام بالخصوص رعیت طبقے کو کافی دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ریاست کے تمام 21؍ ضلع کوآپریٹیو بینک، بینکنگ ریگولیشن قانون کے تحت چلتے ہیں اور ان بینکوں میں آر ٹی جی ایس اور این ای ایف ٹی جیسی سہولیات بھی حاصل ہیں۔ان بینکوں کی تمام 706 شاخوں میں 45.91 لاکھ ڈپازٹ کھاتے اور 21.73لاکھ لون کھاتے ہیں ۔ کوآپریٹیو بینکوں کو نوٹوں کے تبادلے اور ڈپازٹ قبول کرنے کی اجازت نہ دئے جانے کے سبب ریاست کا رعیت طبقہ نقدی سے محروم ہوچکا ہے۔ خاص طور پر ایسے افراد جن کے بینک کھاتے تجارتی بینک کھاتوں میں نہیں ہیں، انہیں کافی دشواری پیش آرہی ہے۔ بیشتر کسانوں نے کوآپریٹیو بینکوں سے اپنے فصل قرضہ جات حاصل کئے ہیں، مرکزی حکومت کی اس پابندی کے سبب وہ بروقت اپنے قرضہ جات ڈی سی سی بینکوں کو ادا نہیں کرپارہے ہیں ،جس کی وجہ سے حکومت کی طرف سے انہیں دی جانے والی فصل سبسیڈی کی رقم بھی ادا نہیں ہوپارہی ہے۔ ریاستی حکومت کی طرف سے گوالوں کو دودھ کے عوض جو تائیدی قیمت ادا کی جاتی ہے وہ بھی کوآپریٹیو بینکوں سے ادا نہیں ہوپارہی ہے۔ ریاست میں لاکھوں رعیتوں اور گوالوں کا طبقہ اپنی روز مرہ کی تجارت کیلئے کوآپریٹیو بینکوں پر انحصار کرتا ہے۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ 14نومبر کو آر بی آئی کی طرف سے جاری کئے گئے سرکیولر پر نظر ثانی کی جائے اور کوآپریٹیو بینکوں پر عائد بندشیں ہٹائی جائیں۔